موسل سل بڑھتی بھی آبادی، ٹریفک، شور، ٹھوان، یوں لگتا ہے کراچی سے کسی کو دلجس بھی نہیں۔
مگر گزرتے گزرتے، اجانہ کوئی پرانی شکستہ مگر خوبصورت امارت دکھائی دے جاتی ہے جو بیتے ہوئے وقت ملے جاتی ہے۔
وہ وقت جب یہ شہر نہ تو اتنا بڑھا تھا اور نہ ہی اتنا بے حس۔
پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کو اس شہر میں آنے والے نوارد ازت سے دیکھ رہے ہیں۔
قاعدی عظم حمدلی جنہ کا انتقال ہو چکا ہے، لیاقہ تلیخان کسی قادل کی گولی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ان کی خالی قرسی پر خاجہ نازمتین بیٹکے ہیں اور ان کے اوپر اس شہر پر اور اس ملک پر قلام حمد بتورے گورنر چرنال سائیہ فگن ہے۔
ہندوسان سے آنے والے لاکھوں افراد کراچی میں بھی عباد ہو رہے ہیں، سیاسی، سماجی، مواشی، بدھالی اور غیری اقینی مستقبل کی فضہ اور اس بیچ میں کچھ سر پھرین اور جوان،
اپنے جیسے ہزاروں طلبہ کی زندگیاں بہتر کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
بہت مسائل تھے اس لیکہ لوگ آئے تھے، لٹے پٹے کس طرح آ گئے۔
ہوسٹل میں دو دو آدمی رہے ہیں، تین تین آدمی کھانے کو پیس نہیں ہے، فلا ہے، وغرہ فیس کو پیس نہیں ہے، کتابوں کو پیس نہیں ہے۔
تو یہ بڑی اہم بات تھا وہ زمانے میں کہ فیس وہ کم تھی لیکن وہ بھی نہیں ہوتی تھی۔
یا ہوسٹل ایکموڈیشن نہیں ہوتی تھی۔
ہم جانوری 1948 میں جانوری میں تھا۔
اور انڈیا میں بھی ہم مجھے پردش راپور میں تھے۔
تو وہاں اس کولڈیز میں انولمین تو ہمارا تھا، اس لئے کہ ہمارے جو گروپتہ فرنٹس کا وہ ایک پروگریسیو لیننگ کرکتا تھا تو وہاں سے رسی۔
لیفٹ کی اس چاہت، خرناس دماغ میں بھرہا باتا، بچ پر صحیل رکھن سے، تو وہ پروگریسی رائٹرس اس سوشن کی میٹنگوں گاتے تھے، وغرہ وغرہ اور سب سے مراقاتے تھے۔
تو وہ تھا اور زوانے میں رسالے ہی بہت چپر تھے، بڑے بڑی شاری ہو رہی تھی، بڑے اچھے مزامین ہو رہے تھے۔
بڑے بڑے پورا اٹماظر لیپ کا زوانے میں بہت تھا۔
یہ زمانے میں نے میٹر کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا اور سکن کیا۔
میٹنگ ہوئی وہ میشن روٹ پر عوض ریسترہ ہوا کرتا تھا وہ نہیں ہے تو وہاں کوئی بیس پچیس لوگ جمہا ہوئے جس میں کہ دوکٹ ماما سربر تھے، دوکٹر حاشمی تھے، ایک اسلامیہ کالیس کے تھے، وہ موسوک کازمی، تو اس طرح کچھ لوگوں نے ملکے یہ شروع کیا تھا۔
یہ کہانی ہے ڈیس سف کی یعنی دیموکریٹیک سٹورڈنٹس فیڈریشن کی جو ڈیس سوانچاس میں کراچی سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پیچھا گئی۔
ماما سربر پرزڈرن ہو گئے تھے اور حاشمی جرن سکٹری تھے، حاشمی کا 29 میٹھا رام ہوسٹل جو تھا اس میں گرہا کرتے تھے اور سارا ہٹ کورٹر سملیگ وہیں تھا سواز شامتر لوگ وہاں آتے رہتے تھے۔
ہم نے یہ سوچا کہ اس سوڈنٹس کو گیذر کرنا جہاں پرورڈیکل پریفام پر ملکی نہیں ہے۔
پرورڈیکل پریفام پر ٹھیک بھی نہیں ہے کیونکہ ہمیں بہت ساری مسائل ہیں۔
پیچھا تھے، پیچھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا تھا۔
اس رہاں سے ہم نے کوشش کی گوڑ ڈیجے میں پہرے سے موجود نہیں تھی، میں نے پھر اسٹبریش کی۔
اور وہاں پر کام کرنے میں ہمیں ڈاکشر ڈیبرو سانٹرزی، مذر ڈییڈ اور ڈاکٹر فرشید یہ لوگ تھے،
ہم لوگ نے ملکر وہاں برشیپ کی ڈیے سف کی اور وہاں ہم نے گوھر ڈیے سف کو چیک سے اسٹبریش کیا۔
اور پھر اور کالڈیز میں بھی ہم نے کونٹریکٹ سیئے، ڈیجے ہی بات سنٹر مانوشا ہے اس لئے ڈیجے کی پرمیسید میں
ایک کارنار پر کھومرس کالیز تھا، اسی پرمیسید میں بیک پر ڈیڈی تھے اور اس بل سے just crossing the road ڈیسیم کالیز تھا۔
پھر ڈیسیف کو ایک ڈارگنظرشن کی طرح سے ہم لوگوں نے ملنا رو کیا اور کبھی کسی کے گھر مل گیا تھا تھے بیٹھ کرا کہ
کوئی آفیس آفیس نہیں تھا ہم لوگوں کا، کلیٹرگ مل گیا بات کرتے تھے۔
ایک دن سرور بھائی نے مجھے کہا کہ تم کالیز میں کیوں نہیں اپنے اس میں الیکشنز میں حصہ لیتی
for general secretary's post، تو میں نے کہا کہ میں کیا لے سکوں گی؟ کہاں لیکن کیوں نہیں؟
کوشش تو کرو اور میں جیت گئی وہ الیکشن، اس کے بعد ہی پھر میں جو میں نے ICB میں جانا شروع کر دیا۔
یہ تھی انٹر کالیزٹ بڑی میٹنگ ہوتی تھی، داو میڈکل کالیز میں جس کو کہنا چاہیے کہ
اچھی خاصی ہائی لیپرل کی ہوتی تھی۔ اس میں پولیسی ہم لوگ بناتے تھے بیٹھ کے اس میں داو کل
زادہ لڑکے ہوتے تھے، دیجے کالیز کے ہوتے تھے اور میں اپنی بھائی گرل سمجھوں۔
بومن کالو یا گرل اس وقت میں گرلی تھی بھارا۔
اور ایک آرنگزیشن سے بن چو گیا اس کا سام، پھر ہم جو دیماہیں لیس تھی۔
سب سے بہت دو فیس، دوسرے ہوسٹل، تھی اسے لیبری، لیبری ایسی تھی جانکے لینڈنگ لیبری نہیں تھی، لوگوں کو کتاب خرید نہیں پڑھتے تھے،
بہت مہنگی تھی، چاہتا ہمائے جو لیبارٹی اس تھی، اس پرہ پرانی چیزیں تھی۔
لیکن پانچے نمان جو تھی، وہ سیکریٹی فیمپلائمت تھی۔
اس پے رائیٹ فنگ کی جو سٹرنٹس ہے وہ بڑے حملیہ ہمارے پر کر رہا تھے کہ آپ کمرنسٹ ہیں اور وگر وگر،
مجھے تو بڑا نہیں تک تھا کہ مجھے کمرنسٹ کرتا تھا، لیکن یہ حقیقت نہیں تھی۔
تو ان مثالوں کے دمہ کرتے کرتے پھر ایک دیس افنیس اس کو اٹھایا۔
اور یہ تی کیا کہ ان کوپی گورمنٹ لیبر پر اٹھا لینا چاہئے ہیں۔
اور یہ بھی مطلب کوئی ٹھائی ٹین مینے کی پریپریشن تھی۔
اس میں سارے کارجی میں موبلیئیسٹن ہوئی اور مسلسل فضل رمان تھے وہ زمان میں،
ایجوکیشن میں ایس طرح ان سر چاہتے تھے کہ وہ ہم سے بات کریں، وہ ہم سے بات نہیں کر رہے تھے۔
انہیں جوابی نہیں دیا، کچھ دیر کلانٹر میٹر وہ ہم کو کمرنسٹ برائنٹ کر دی ہم آتے تھے۔
یہ وہ دور ہے جب نامولود پاکستان دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سر چنکہ تبل بچکا ہے، پاکستانی حکومت اور فوج امریکہ کی ایک نظر التفاد کی منتظر بیٹی ہے۔
ایسے وقت میں کسی پر بھی کومنسٹ ہونے کا شبابی بی یکین حکومت کے لیے خطرے کی کھنٹی نہیں بلکہ سائرن ہے۔
اس فضام میں وفا کی وزیر طالیم فضل رمان ہو کہ کراچی کی کمشنر ایٹی نکوی یا کراچی انوازٹی کی وائس چانسلر ایبی اہلیم
یا ان جیسے بیسی عمل دار آخر کس طرح اور کس مو سے موز اور دیسف کو مو لگاتے۔
آخر قد سمبر میں فانلی ہماری لیڈرشپ نے اس میں سر فر اور حاشمی اور لوگ سے فیصلہ کیا کیا
کہ اب اس وضہ انجار نہیں ہو ستا، اب دمانز جی ہم منائے گے۔
سات جنوری کی صباح حکومت نے اپنی کسی خوف کے تحت شہر میں دفعہ 144 لگاتی
تاکی اسودرنس دیجے کالیس سے بھاری نہ جا سکیں اور سات جنوری ہی کہ صباح خبار میں خبر بھی آئی کہ اسودرنس کی نمائندہ حکومت سے مل چکے ہیں
اور ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ اس خبر نے ان ہزاروں سودرنس نے مزید اس طرح پھیلا دیا
اور وہاں پر یہ مڈکل کالیس سے بھی آئے تھے اور سکول کے بھی لڑکے تھے وہ بھی سب آئے تھے
ہزاروں تھے، پورا کالیتر کمپون بھر آوا تھا دیجے کالیس ساتھ رہ گئے
یہ اب سین کتنا بڑا کمپون تھا، پورا بھر آوا تھا تھے، اتنے بڑے جروس میں کسی کے پاس ایک چھوڑیسی اسٹک تک نہیں تھا
بندوق گولیتہ بہت بڑی بات ہے، چھوڑیسی اسٹک تک نہیں تھے، کچھ نہیں تھا
سب نے ہتے تھے، بالکل، توٹلی کوئی تیانیسا لڑنے کے لئے تھے
دیسی بات کے لئے، صرف بیس فل وہ تابع تھے لیکن خامخا ہم کو پوریس نے پرووک کیا
اس میں ہم سب تھے، لڑکی آمی تھی ہمارے کالیس کی، ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ آپ لوگوں نے بیچ میں، بلکل پروسیشن کے بیچ میں نہیں آنا ہے
کیونکہ لڑکیوں کا ماملہ ہے بقال رحمان اللی، حاشمی جو تھے انکا کہ ہم تمہیں بچائیں گے کہ ہم خود بچیں گے
شروع سے کالیس ہمیں نکل نہیں دیا، پوریس نے اتنی سبتس دراتی چاہت بگرہ کیا لیکن پھر بھی نام نکلے اور جب نکلے تو تیر گیسنگ بہت ہوئی یہ وہ جگہ جہاں پر
پردائیز سنیمہ تھا، جماع غفیر کی سیکروں کی تاتا ہے پوریس، وہاں سے فائرنگ کرتے تھے اس کی تیر گیس کی، وہ اس میں زخم ہو رہا تھے لوگوں، ہمارے ایک ورکر نے جلتا وہاں
تبتا ہوا وہ حاصل اٹھا کہ واپس پہ بھی پھیکا، اس کو حاصل جل گیا، اس کی تصیرے بھی چھپی جلے بھی آت کی
چونکہ میرے بھائی انوالف تھے اس میں، مجھے پتا تھا کہ وہ جیت میں ہیں اور فائرنگ جو ہے وہ پلکل سامنے سے ہو رہی ہے
اور ان کا وایٹ رمال بھی میں نے دور سے دیکھا کہ وہ لہر آ رہے ہیں کہ فائرنگ بن کرو
لیکن فائرنگ تھی کہ بن نہیں ہو رہی تو لڑکے بھگدر مچ گئی دارو دار
جلوس تو بکر گیا، مگر سینکڑوں طلبہ مختلف راسوں سے ہوتے ہوئے وزیرت تعلیم فضلو رحمان کے گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے
پولیس نے سرور اور چند لیڈر سو گرفتار کر کے کلیفٹن تھانے پہنچا دیا
مگر یہ سر پیریک کب خاموش رانے والے تھے باکیا تلبہ نے فضلو رحمان کے گھر کے باہر دھرنا دیکھر اتنا شور مجھایا
کہ دسٹک مجسٹیٹ زیادہ حاشمی کو مجبورا ان گرفتار تلبہ کو ریا کرنے کا حکم دے نا ہی پڑا
ریا ہوتے ہی سرور اور ان کے ساتھ ہی دوسے تلبہ تک پہنچے اور اعلان کیا کہ کل آٹھ جنوری کو پولیس ایکشن کے خلاف جلوس نکالا جائے گا
میں جائیا تھا صمر لگا لیکن حراری
شہر میں یہ پیلا واقعی تھا کہ پولیس نے شہریوں پہ گولی چلائی
7، 8 اور 9 جنوری تک 27 شہری حالاک ہو چکے تھے
جن میں کولج اور ہائی سکول سٹوڈنس کی علاوہ عام راقیر بھی مارے گئے
اس واقعی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آج بھی ان لوگوں کے ذہنوں پر نکش ہے
جن کا اس واقعی سے براہِ راست کوئی تعلق بھی نہیں تھا
میں یہ واقعیہ کبھی بول نہیں سکتا ہوں
اس لیے کہ اس دن امارے میں میری اور میرے بھائی کی نو جو سرمانیتا
اب نو جو تک ایک ایسی چیسے کہ تقریباً سات یا نو سال کی عمر میں وہ ہونا چاہئے
تو نو جنوری کے میرے خیل سے میں وہ فکست ہوا تھا
اور ایک دن پہلے یہ سٹوڈن رایٹ ستا ہوا تھا
اور وہ ستا ہے تقریباً میرے اپنے گھر سے سو دیر سو یا دوٹرہ سرد دبا کھانا
یا ایادہ سے جیادہ فائرنگ ہوگی جیادہ جانے بھی
گئی تھی
گن سوٹ کی تو رگیویر آٹیڈیو اس طرح پہلے اس دن ایک دو روز
لیکن یہ یاد ہے کہ فائرنگ ہوٹی تی چلا دے کے آواز بھاگ ہوگ
سب بھاگ بگو رنگ تھی
مجھے وہ شام بھی یاد ہے جب دو تین ہمارے عزیز رشتدار لڑکے
بھاگے ہوئے آئے اور یہ کہا کہ بھائی بہت ہنگامہ ہوا ہے
اور بڑا پروٹسٹ کیا تالیب علموں نے
اور اس وقت کے جو گورنر تھے یا چیف منسٹر تھے کون تھے گورمانی صاحب انٹیریر منسٹر تھے
ان کی گاڑی جلا دی ہے اور کئی لڑکے مارے گئے
تو اس وقت اس واقعے کا جو اثر تھا دل و دماغ پر وہ ایسا ہوا تھا
کہ جیسے سب کچھ اپنے سامنے ہو آئے ہمارے ساتھ ہو آئے
اور ہمیں اس کے لیے کشنا کو جدو جہد کرنا چاہیے
بات صرف کراجی تک مہدوط نہیں رہی
پورے پاکسان کے تالیمی داروں میں ان واقعیات کے خلاف اتجاج ہوا
سکھر میں بھی چنسر پھرے موجود تھے
ساتھ جنوری اونیس سو تریپن کی رات کو کراچیزے خیبر مل کے ذریعے سکھر پہنچنے والے دو سوڑنس
نوی جمعات میں پڑھنے والے مزر جمیل سے ملے
کراچی کے واقعے کا سنکر ان سکھور سوڑنس نے تمام رات سکھر کی سکھور سوڑنس کو تیار کیا
اور اگلے روز یعنی نو جنوری اونیس سو تریپن کو سکھر کے نہ صرف تمام سکولز بلکہ پورا شہر سکھر بند کروا دیئے وہ سکھر جو خاص طور پر مسلملیق کا گڑ تھا
لیکن اس کن سے یہ ہوا کہ سا وہ ہمیں اور ہمارے تین چار دوستوں کو رات میں پلیسوالوں نے وہ لے گئے
اور پھر وہ ہوا لات و ہوا لات میں لکھات تو اب ذارے رات و لات ہم ہیرون گئے
گورمین نے مجھوز کیا ایک اٹف کنٹول ہو رہا ہے پورا ہے رہا ہے دن دے بکے میں ایک ٹیوزی ہے
تو پھر انہوں نے کنسیلیٹری ویٹیو ریٹاپٹ کیا ہو سکتے ہیں اور یہ کہا کہ اس کو سب یہ پوری سیٹرن جیا اس کو روک دیے دایر بند کر دیا جائے
انہوں نے کہتا ہے بیٹی نقوی صاحب سے آپ کا بیٹنگ کرا دیتے ہیں بیٹی نقوی سارٹے ریکٹنگ خائن میں ٹیوزی ہے
سوار کو خوصا گئے اور سوار نے کہا مجھوز کمشنر اگر مجھوز کمشنر آپ کو اگر تمیس سے ہم سے بات کرنے نہیں آتا ہے
اس کے مجھے اگر آپ اگر آپ در مجھوز کمشنر کو جانتے ہیں تو آپ کو سوار نے کہتا ہے کہ اس کو سوار نے کہتا ہے جو اتنی نقوی ستنٹ شین شاہ بیکول کراتے کے باشاہ اتنی نقوی سے سو اتنی نقوی سے بڑھا ہوتی ہے
اس کو یہ کہتے ہیں بڑی بات دیتے ہیں اس کو بڑھا ہوتے ہیں
یہ سب کچھ اس موٹر اٹموزیوری میں وہ بھار نکل رہا ہے اور اس سے کمشنر بڑھا جارا ہے
ایک اور گروپ تب زمانیم خبرت زمان کاو سے وہ حلیم صاحب کے بلکل پٹھو تھے
وہ بنا رہے تھے کہ اس پاکستانید دلگیشن لے کے جانے کاو سے اس لنگروپ لے کے جانے کاو سے اس نے مشروف تھے وہ
پھر دانی کیا کرنے جا رہا تھا تو راستے میں جس طرح کوئی تو خبرت زمان کاو سے یہ سب کوئی جیتے دلکل مرے رہا ہے
تمہیں مروایا ہے یہ سب دوڑکے مرے ہیں اور اتنی بہلن سوئی وہ تماری بڑھا جاتے ہوئی ہے
وہ سب دوڑکے تھا پڑھو اس کو مرہا ہے دیکھو لوگوں بچا وہ لوگوں میں دے ہمارا ہمارا اور وہ رکھنے پر پیٹھ کے وہاں گے در ہم لوگ حاکہ اٹھوٹ کرتے تھے
یہ ایسی بارے میں سب دوڑکے دلگیشن لے کے جانے کاو سے اس کے بعد ان کی پرائمین سے خواجہ و نازم و دین سے ملاقات ہوئی براہرہا اس انہوں نے
خود ان سے ملاقات تلب کی اور ان کا دلگیشن گیا ان سے ملا اور ان کے تقریبا سارے مطالبات مان لیے
پرائمینسٹر نے اور اس کے بارے میں انہوں نے یہ کہا کہ اگر یہ باتیں پہلے سے مان لی ہوتی تو اتنے لوگ مرتے ہمیں نکرنے کی ضرورتی نہیں ہوتی
بیرال اس کے بعد انہوں نے کیا کیا کہ اپنے آپ کو انہوں نے اوگنائز کیا اور یہ اپنہا انٹر کولجیٹ بڑی جو تھی ایسی بی جس نے دمانزڈے کی کال دی تھی دی اسف کے ساتھ مل کر
یہ پھر گئے ملتان ان کو ملتان سے داوت آئی تھی نشتر میڈیکل کولج کا ہوسٹل اناظریٹ کرنے کے لیے اور وہ داوت آئی تھی اصل میں ان کے داو میڈیکل کولج کے پرنسپل کانل ملک کے پاس
اور کرل ملک نے کہا کہ میں نہیں آوں گا میں اپنا student union کا جو پرزیدنٹ ہے سرور اس کو میں بھیجتا ہوں
تو صحبہ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں لیکن میں سیکنٹ کلاس ریل پہ جاؤں گا داکہ میں اسی ٹکٹ کے پیسے سے تین لوگوں کو اور لے جاؤں تو وہ چار لوگ یہ گئے جہاں پہ سٹیڈنٹس نے نشتر میڈیکل کولج کا ہوسٹل اناظریٹ کیا
جو کہ میں خال پہلے ہوا نہ کبھی اس کے بعد کہ سٹیڈنٹس نے اناظریٹ کیا ہو کوئی ہوسٹل ملتان سے یہ لوگ پھر گئے لائیل پور جو اس وقت کے لاتا تھا فیصلہ بات
وہاں کے سٹیڈنٹس نے ان کو بلایا بہت شندد سے تو یہ وہاں بھی گئے لہور بھی گئے اور راول پنڈی بھی گئے اور پشاور بھی گئے
دھاکہ اور چٹر گوانگ یہ بعد میں گئے انہوں نے چندائے کھٹا کیا اور پھر جون جلائے میں یہ دھاکہ بھی گئے دھاکہ اور چٹر گوانگ بھی گئے
اور اس کے بعد ان کا یہ تھا کہ ہمیں بہت بہت بڑا کنویشن جو ہے انہوں اوگنائیس کریں گے اور ان کا خیال تھا کہ یہ سال کے بہت بڑے جلدی کر دیں گے لیکن وہ پھر ان کو دیسمبر تک لگیا اس کو اوگنائیس کرتے کرتے
پھر دیسمبر میں کٹرک حال میں ان کا بہت بڑا کنویشن ہوا اور پاکستان سٹیڈنٹ کنویشن 1953
کٹرک حال میں پھر ان کے دلگیٹس آئے پورے ملک سے including اس پاکس جو اس پنگال کے لائے جاتا تھا
اور یہ کوئی 140 دلگیٹس آئے اس کا بہت بہت ہے کہ ستر کالجیز ملک بھر سے جو تھے ان کے
پرزیدنٹس اور وائس پرزیدنٹس یا پرزیدنٹس اور جنرد سیکرٹریز یا کچھ اس طرح
ایلیکٹٹ دلگیٹس ان کے تھے وہ دلگیٹس بن کے ان کے کنویشن میں آئے
اس کا مصد یہ تھا کہ اس پرابرمز کے اوپر ہم وہ کرنے اور ہمارا اندرونی خیال یہ تھا
کہ جو ہم اس کو کریں گے کافی سونس ہمارے پاس آئیں گے تو ہم دیسکس کریں گے اسے پاورٹی ایلیویشن دیسکس کریں گے
اس میں worker working class کی پرابرمز ہیں 6،7،8 آنڈ کا ایک وفت لے کر کے میں آیا تھا
اور اس میں کچھ سکھر کے لڑکے تھے پندو آکر کے لئے تو ہم لوگ تو ظاہرے گاؤں سے آئے تھے
کراچی میں کسی سیاسی جرس میں اس میں خود ایک بڑا روماز تھا اور اس وقت جگہ جگہ پلیس لگی گوی تھی یہ تھا
اس وقت تک انہوں نے کچھ کیٹری کال میں جانے سے نہیں روکا اور کیٹری کال میں خاص ہے
لیکن یہ کہ پبلیک دور دور تا کھڑے تماشہ دیکھنے تھے وہ سمجھتے تھے کہ کچھنا کچھ ہوگا ضرورا
اس وقت تھے ایک ابروحی صاحب لوہ مینسٹر تھے ان سے انہوں نے کہاوا تھا کہ آپ آکے پرزائیٹ کریں
انہوں نے کہا تھا میں آوں گا بروحی صاحب کے پاس جاکے مطلب جب دفعہ 124 لگ گئی تو بروحی صاحب لوگ شاشو پجنے پڑ گئے کہ آئیں گے کہ نہیں آئیں گے
تو یہ گئے ان کے پاس دوٹر سرور اس پر دوٹر تو خیر نہیں تھے یہ گئے ان کے پاس اور کہا کہ اس طرح سے ہے اور ہمارے
کنویشن کو روکنے کی کوشش حکومت کر رہیے جس کا آپ حصہ ہیں تو آپ پھر بھی آئیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں تو اپنی زبان دے دی اور میں تو آوں گا
تو وہ دیر سے آئے اور جب وہ آئے تو گھنڈا علمانٹے کافی تعداد میں جمع ہو گیا تھا وہاں پہ بہر اور جب گئٹ کھولا ان کی گاری کے لیت ساتھ یہ لوگ بھی اندر آگئے
ہم لوگ سر پیج بیٹے تھے یہ چیوگرس کا یہاں تھا یہاں اور یہ دھر کے دروادوں سے یہ کھولیا تو دونہ دروادیں تھے یہ بھی اور یہ بھی
ایدھر سے انہوں نے ہم لوگ کیا دین دروادوں سے درکی لیکن وہ چلدی قابو پا لیا گے اندر لیکن بہار یہ جنگ چلتی رہے جو کہ میں
اس وقت اندر میرے جبٹی تھی ایک قسم کی تو بہار جاگے دیکھتا بھی تھا لیکن مجھے ہی معلم تھا کہ بہار ہمارے دوست
داکٹر عدیوریز بھی ہیں اور لوگ بھی ہیں تو وہ سمار لیں گوفلی اور کنوینٹشنڈو ہے وہ جاری رہا اور ایک ابروحی صاحب نے اپنی سپیچ کی کافی زبر دست اور پھر ممت سربر نے اپنی سپیچ
وہاں پر کی دوسرے دن کے سارے اجلاح جو ہے موڈل سکول ہی میں ہوئے آخری اجلاح میں اپسوہ کا اعلان ہوا سب لوگوں نے جہاں جہاں
دیسف کے کمیٹ کیا تھیں سب نے کھڑے ہو کر اپنی کمیٹ کیوں کو اپسوہ میں مرچ کرنے کا اعلان کیا
ہم نے بھی اپنی جو اپتہ لوکل ماں بنایا ہوا تھا اس کو اپسوہ میں مرچ کیا
کیا دیسف کا کام تلبہ کو جمع کر کے صرف اپنے مطالبات منوانا ہی تھا یا کچھ اور بھی
صرف یہ ہی نہیں ہے یہ جو ایک سلسلام نے شروع کیا ہے اس کے لیے پیسے بچائے اس کے لیے لوگوں کو موٹیبیٹ بھی کرنا ہے
اور کچھ تھوڑا سا کلچرلی بھی انٹرسٹنگ بھی بنانا ہے اس پوری تحریق کو کلچرل ایکٹی بیٹی اس کے ذریعے سے
مشاہروں کے ذریعے سے کتابیں اچھی پڑی جائیں اس ابرنے اس کے ذریعے سے یہ ساری چیزیں جو تھی بتانے ہیں
اس سلسلے میں ہماری فیملی میں کہاں بھلا کے درامیے کرنے کی جازت بلکل بھی نہیں سوالی نہیں پیدا ہوتا تھا لیکن
بل گئی جازت اور میں نے اور راشدہ نے ایک چھوٹی بہن جو ہے انہوں نے ہم نے دیجے سائنس کوالج میں ایک دراما کیا
اس میں دیجے سائنس کوالج کے کچھ لڑکی اور بھی تھے مجھے پوری درامی کیا تو وہ نہیں یاد کے کیا تھا
لیکن ہم دونوں بہنے تھے اور اس ایک غالب کا ایک مصرح ہے سنطانہ ہی مبات مقرر کہے بغیر
اس پے وہ سارہ دراما بنا تھا اور وہ ہم نے سٹیچ پر پیش کیا باقائدہ اتنے عوڈینس کے سامنے اور اچھا پسن کیا گیا وہ
ہم لوگوں نے اسٹرون حیرت بھی نکالا اس میں بڑی کامیہ آبی بھی اس میں بھی میں نے بہت مہینہ تھی
میں اور نسین ہم دونوں نے ملکے ہمیں فنٹس بھی ہمیں کٹا کرتے تھے سارے فنٹس جو ہم اس کو بیشنس سے حاصل نہیں ہوسکتے تھے
ہم اس کے فنٹس بھی کرتے تھے اس میں بہت کچھ لکتے تھے وہ کہ ہم آخر ہواڈ سٹرونس کو بیشتے تھے
اس سے ان کو بھی تجسم سیدہ ہوتا تھا
اس سٹرونٹ حیرت جو ہے ہم سکھر میں مگاتے تھے اور یہ عجیب لوگوں نے ہمیں بعد بتایا کہ قرارچی کے بعد سب سیدہ وہ سکھر جاتا تھا
تو اس زمان اور ہم مجھے اچھے دیتے تھے یاد ہے کہ یہ ہم دو چار دو تھے اسے ہم ایک جن میں بیشتے تھے ہم باقا دا ہے
سڑک کے اوپر آوال لگا کر کے سٹرونٹ حیرت جو دو دو آنے کا اوپر چاہم بیشتے تھے
کون جانتا تھا کہ دو دو آنے میں بکنے والا سٹرونٹ حیرت اپنے اندر آنے والوں کے لیے ایک تاریخ سمیت رہا ہوگا
اس وقت پاکستان جو ہے اپنی جگہ بدانے کے شکر میں امریکہ کے ساتھ معاہدے کرنے کی کوشش میں
تو پاکستان نے فیبروری 1954 میں بغداد پیکٹ سائن کر لیا جس کی وجہ سے اس کو امریکی فوجی امداد ملنی تھی
اور اس کے بعد پھر ہر ترکی پسن جو جماعت تھی اس کے اوپر مزید بابندیاں لگ گئی اور پھر اس کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا
ایک باال الوی 1950 کے اورینٹ ایرویز یعنی آج کے پی آئے میں ملازم تھے
وہ اس وقت سٹرونٹ نہیں تھے مگر ترکی پسن ضرور تھے
آج بھی جیل کے دن انہیں یوں یاد ہیں گویا کل ہی کی تو بات تھی
اس کے اندر وہ رہتے تھے سوریری بغرہ رکھے جاتے تھے
یہ بی آئی پی بلو ایک کتیگری کھدرات کو اس میں رکھا جاتا تھا
یہ سارے کھولہ مہدان تھا باالیبار ہوتی ہے یہاں ہم کوئی دیوار ہوتی تھے
یہاں کھانا ہوتا تھا
اب اتاتا ہوں آپ کو یہاں کیا ہوتا تھا
تو یہ اس ان کمروں میں
سرور
انیس حاشمی
مجھے شکور
جو دان
یہاں کھانا ہوتا تھا
تو پھر جب یہ بی کلاس ہوگئے کچھ اور لوگ آگئے
تو پھر سرور وغرا سب کو اس میں شفٹ کر دیا گیا
تو ان کا جیسے کہ ہم لوگ اسٹورن جی نو جوانا گورب ہم لوگ رہا ہے
یہ آپ کا غالب
ڈاکٹر غالب ڈاکٹر
یہ اور آپ کا جو ڈاکٹر
اسائیوٹی کے جو ہے نا ڈاکٹر ڈیبو لحسان
دیور اندیس بیریک
جو ہم لوگ تھا
پرانے سینیرس سے دیور اندیس بیریک
وہ کہتے ہیں کہ بھتورگوں کے ساتھ ہم لوگ حیثی بداخ نہیں کر سکتے
تو یہاں سے پھر ایک دوسر کی نارے شلتے تو
اور یہاں ہوتے تھے انیس آشمی یہاں سے پھر ہم کو فیصل کی غذلیں نظمیں بڑا ترانوں مچھا تھا
وہ رات کو سنایا کرتے تھے
پھر ہم لوگ یہاں ملکے سبے گانا گایا کرتے تھے
میرے خیالے کہ ساتھ ہادمی تھے
اس یہاں
اس یہاں
تو یہ ایریہ تھا
پھر یہاں شام کو اس میں بالیبار ہوتا تھا
نیٹ پٹ سارا
اور ایک جیم سے یہ ساب پی تیم تھی
اور ایک ہمارے سٹورنٹ کی تیم تھی
اور یہاں ایک اور بڑے زبزیس آشمی تھے جو اس لاکے رکھے گئے تھے ان کا نام تھا
ناراہنداز بیچر
ناراہنداز بیچر was the member of the legislative assembly of undivided
سند
بومبے میں کی اسمیلیگ ممبر سے
اور انہوں نے وہاں باقائدہ اس پر جدو جہت کی
اور
سر پھٹا وال تھا انہوں کا
کوڑے کھائب انگریزوں کے
سر پھٹا اور انہوں نے اس تھی جدو جہت کی
کہ سند کو بمبائی سے لکھ کیا جائے
اور وہ سند کو بمبائی سے لکھ کیا جائے
اب یہاں پاکستان میں آئے تو ہندو
وہاں رہتے تھے وہ رنشور لائن میں
ہر وقت جہاں زرا کوئی بات ہو پکڑے بند کر دیا
اور ان کا یادہ آرم تھا کہ سبھا جب وہ اٹھتے تھے
تو ایک پیالی بلیٹ کی اندر
پھول
یہاں کہ یہاں کہ جو مامولوپ کینے صفیت کالے لال
اس کیوں رکھیں
ہر ایک کے پاس ہے
کامریڈ
کامریڈ
ہر ایک آدمی کو کیا
آپ ایک پھول
ہر آدمی ایک پھول لے لیا کرتا تھا
اور سبھا کو اگر کبھی ایسا ہوتا ہی نہیں تھا
کہ
نارائن دس بیچر
will not come
چوٹ لگی تھی
یہ پاکستان
ٹراموے ورکرس یونین کے بیسدر تھے
پورٹ اور داک ورکرس یونین کے بایس پرزنٹ تھے
بڑے آدمی تھے وہ
اور بڑا ان کا نام تھا
ان کا بیٹھا بیٹھا بیمبر
اسملی ہے
نارائن دس بیچر
ان کے بڑی قربانی تھی
پاکستان کے لیے اور سنڈ کے لیے
سنڈ کو انڈیپنڈر بنانے والوں میں شامل تھے وہ
عدادہ کیا تھا
تو وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے
وہ بڑا بڑا بڑا آتا سا ہی لوگ کے ساتھ
سارے اسٹوڈنٹ
رائٹر
شایر
جرلیسٹ
فیلمارٹی
سزاکر
اور پولیٹکل ورکرس
سب
سب پکڑے گئے
ہم جو آخر میں دو آدمی پکڑے گئے
محمد علی
ملباری
اور باقا دا اس میں وہ ایک بینڈو بناکے جنگنک شاپی خوار
جب یہ چھٹے سب تو ذاتر گریجوٹ کر چکے تھے
اس کے بعد زیرہ سیاس
سٹوڈنٹ پولیٹکس میں پھر دو بارا
نہیں گئے
جو لوگ سٹوڈنٹس رہے
پھر بعد میں انہوں نے جاکے
نیسف
پر قبضہ ایک طرح سے کر لیا
نیسٹنٹ سٹوڈنٹ فیڈریشن جو بنی تھی
پیسف نے اس وقت
یعنی سمجھی ہے کہ
تین چار سال تھے دیسف کے پاس
ان تین چار سالوں میں
دیسف نے اویرنس بہت پیدا کر دی
یعنی یہ اس اویرنس کا ہی نتیجہ تھا
کہ وہ 53 میں جو
اتنے ہزاروں کی تعداد میں لڑکے نکلے
اس وقت تو اتنی عبادی بھی نہیں تھی
لیکن جو سٹوڈنٹس نکلے
سدر اور بندر روٹ کے سڑکوں پر
وہ اس اویرنس کا ہی نتیجہ تھا
تعلیم کا میار ہو، وہ سیکولر ہونا چاہئے
اس کے مخاصیس سیکولر ہونا چاہئے
دیموکریٹک ہونا چاہئے
میں جو پیچھے مرکا دیکھتا ہوں کہ
مومن تو دیفنیٹ لی تھی
اور اس کے بہت ہی دورس
اسراد بھی ہوئے
جو اب دک
انیسر کے شکل میں اور انیسر کے بعد
اور بہت سے
جو لیفٹس
اسٹوڈنٹس اور نیڈریشن سے ہیں
یا نیچلیسٹ ہیں
اور انہوں کا
موجود ہے
سندی اسٹوڈنٹس ویڈیشن ہے
بیسو ہے
بلوٹی اسٹوڈنٹس اور نیڈریشن
ان سب میں وہ لیفٹ کا علیمان جو
اور وہ شروع ہوا تھے
لیکن اگر آپ ہم سے پوچھے کہ
ہمارا اس میں رول کہنا
تو ہمارا اس میں
میں اس کو آگے چلانے میں
فرق یہ تھا
اس ارڈنل ڈیسیف میں
اور بات کے ڈیسیف میں کہ انہوں نے
بہت زیادہ
واضح طور پر اپنے آپ کو کسی بھی
سیاسی جماعت سے جوڑنے سے انکار کیا تھا
کہ ہانا کے ان میں سے بہت سارے تھے
کومنس پارٹی کے ممبرز اور
ہمائتی
لیکن انہوں نے
کومنس پارٹی کی سیاست کو
کمپس میں نہیں آنے دیا
اب تک جو کچھ بھی نظر آپ کو آتا ہے
تو وہ ہانا کے اتنی فرقچٹ ہوگئی ہے
اب ہر طرف سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے
لیفٹ
لیکن پھر بھی جتنے بھی ہے
اور ہم سب کچھ ناکی طرح کسی طرح سے انس پارٹ ہوئے رہے ہیں
دن سے دو دن سے
یہ تھی کہانی اس ٹیسیف کے جو
ٹنی سو پچاس سے ٹنی سو چاون تک رہی
اور پھر جیتو جہود کے اس دھارے
نے نیشنل سٹورڈنس فیڈرشن کی شکل اختیار کے
اور ستر کی دحیم میں ایک بار پھر
سندھی ہی بلوچ پشتون کومپرس
ٹیسیف کے علمبردار بنے
مگر ان کافلوں کی اپنی
علک علک داستانے ہیں
مجھے روحایہ
ایسی طرف
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
سینا تنگر
