کشمیر جنت بے نظیر جہاں ساری دنیا میں اپنی بے انتحاہ خوبصورتی کے لیے مشہور ہے
وہی یہاں کی دستکاریوں نے اسے عالمی ستخ پر ایک منفرک چناکت بخش رکھی ہے
کشمیری دستکاری مسنوات کی دل دادہ دنیا کے چپ پر چپ پر میں موجود ہے
اور یہی وجہ ہے کہ دستکاری شوفے کو ریاست کی معیشت میں ریڈ کی حدی کی حیثیت حاصل ہے
آئیسے سینڈو سال قبل سالارِ آجم امیرِ قبیر میر سید علی حمدانی رحمت اللہ علیٰہ
طبلِ غیدین کی غرص سے واردِ کشمیر ہوئے
تو آپ نے ہمرا سارے ساتھ سو سادات کو بھی کشمیر لائے
جو مختلف فنون کے معیف تھے جہاں حضرت رحمت اللہ علیٰہ نے کشمیریوں کو ویدانیت اور روحانیت کا گرس دیا
وہی سادات جو مختلف دستکاریوں کے رموز سے آشنا تھے
نے کشمیریوں کو ان فنون کی باریقیوں سے آشنا کر کے ان کے لیے شاید روزِ عبت تک روزی روٹی کا بندبس کیا
انہیں دستکاری مسنوات میں ایک منفرد اور بے مثال دستکاری قانیشال ہے
قانیشال دراصل پشمینے کے دھاگے سے تیار کیا جاتا ہے
شایل کا نام اس لیے قانی پڑا ہے کیونکہ اس کو ایک خاص قسم کی لگری کی تیلیوں پر لپتے رنگ درنگے دھاگوں سے
صرف اور صرف ہاتھ کی مدق سے تیار کیا جاتا ہے اس لیے کام سخط مشکل اور سبرازمہ ہے
یہ از کشپی لاغ با نیس پا نیس پا لائے ایسی مقلومانی کنوں
میں کم اکشت لائے ایسی مقلومانی کنوں میں کم اکشت لائے ایسی مقلومانی کنوں میں
کم اکشت لائے ایسی مقلومانی کنوں میں دون نفرانی ایسی مقلومان اور ایسی مقلومانی ایسی مقلومانی کنوں میں
سیط Supportی وimm
اپتدtir wine I قر인가 ایسی مقلومانی کنوں میں کênے تیار کیا جاتا ہے جس کے بعد جانےlem
کو شرم تeronیظہ ہے جا سی تحمو خلی تو Didiz
جائے جاузی مقلومان آ Καιی چی آ nice
چی مقلومانی کنان دھائیں گے
بھارے جاتے ہیں اس کام میں کافی مہارک کی ضرورت ہے اور ایک شال کی
تیاری میں کافی عرصاب ہی لگ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ کانی شال کی
قیمت بھی کافی اچھی ملتی ہے کانی شال کے سنت کے ساتھ دستقاروں کی
ایک اچھی خاصی تیداد واپس تا ہے تا ہم مارکٹ کے تقازوں اور
ہر سنت میں باینول اقوامی ستا پر جدت آنے سے ان تقازوں کے ساتھ ہم اہم نہونے کی وجہ سے
کانی شال کی سنت کو دجگہ لگا تھا لیکن سرکار کی طرف سے آن چھے سال قبل
کچھ ایسے اقرامات کیا گے جن کی بذولت اس سنت کو واپس دگر پت لائے گیا
ان اقرامات میں دستقاروں کو تربیت دینہ اور کمپیوٹر کی مدت سے
ایسے دیزائن تیار کرنا شامل ہے جن کی بازار میں مانگ ہے کانی شال کی
سنت اگر چیوادی کی ایک اہم دستقاری سنت ہے اور اس کے نام پر وادی کے
زلابرگام کا ایک گاؤں کانی ہاما بھی معصوم ہے تا ہم کئی ایسے مارکٹ
کار فرما ہے جن کی وجہ سے یہ سنت ایک بار پھر تباہی کے تحانے پر
کھڑی ہے سب سے بڑی وجہ ریاست سے باہر مشینو پر کانی شال کی نکل
یہ نکلی شال دنیا کے تمام مندیوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور چونکہ
اس کی قیمت اصلی شال کے مقابلے میں بہت کی زیادہ کم ہوتی ہے اس لیے
اصل کانی شال کی دمانت دن ودن کم ہوتی جا رہی ہے ایک اور وجہ یہ ہے
کہ دلالوں کی لالچی فترت کے سبب بھی اس سنت کو نخسان پہنچ رہا ہے اور دستقار
اب بدل ہو کر اس سے کنا رکشی اختیار کر رہے ہیں
پھر میں 6 وریو پیٹرنز چاہیز یا کائی مازن کی اختیت نفر یہم نے یا سیچن
بابست اصیص کی ہی نز تیموز تو لکن نشاننز مال کغیرگرن نش تو لکھز مال
اگر اس تیمو تو دہان تیموز کن بچی بیڈن بیڈن بابایڈن پناز نیلز
یہ مانی میں کغیرگرن دہان تو لکھ تیمانا جیزا کہ ہم داہتی کیا ہے
پر سوز کو آنسی تنوز کو اختیار جیز بیڈن بابایڈی سی پناز نیلز تو دہان چیز تیموز تو دو اگر اگر اگر پنان بنان چیز
سلتن میشن پنان بنان دہان تو ملی ہنچوں بنان پناز نیلز
مگر تیموز سمجھنے یہ اگر اتلاگت چاہ سارڑا ناو تو میکیٹور بنان چیز پناز نیلز
تیموز بنی کھوڈگرز راستینا بویڈپانکی بابایڈی تیموز تو تیموز نیلز تو چیز بناوان اختیار چیز دہلاگت گاسان اچھا چی کسان بیڈیز بابایڈی سکیڈ نیلز تو تیموز اچھا چیز دبان ایشوٹی پناز نیلز تو اشکت پڑھ حموطہ یہ دہانیز
تو اگر ایسا چیز تیمانی پناز نکنوز ایسا چیز اختیار چیز سواری نکسانیز
اگر ایس میں تاح پڑھ نیلز تین جاہتری ایٹی پیٹھ پناز نیلز دیت پیٹھ پاکاوز ایسا چیز میں چیز پناز راپی ایک سکیڈگرز سواری نکنوز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نیلز تو تیموز نی
تو اُس چیو موت بانو بزورش کرائی نیمن باپائرین میحر بینی میحر بینی کر دیتا تھا یہاں سان تیسیٹ کر دا انساف
کیا جی ایٹ پوٹن تیمونوں کیسن ایٹی چور چوز یا کامیو مطلبی کھانیس
سنوچوں کو چیو کھانیس کیا تیموش یا سان ایٹ چیوز داشتہ لاغتن تیموش دبان اجبوشی بانوں پواز نیلز تو ایٹی چیوز ایک چیوز بیئیز گیا ایٹی چیوز بات کسموچی گورمٹ کے طرف ایٹی ایٹی ایٹی چیوز ایٹی چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیوز چیو
ہر کان کھوٹگرینے سے یہاں یادaja نظر کے نظوریہ آسن گاسن فکسر
یہ امسی تین ایک اس مجھورہ سن روپیہ زدہ آئیہ تن دو ہوسے نس
پیلانی وصف پر آئے آئے کیا پاک نہیں ہیتا نس آسل پہتے نس
مگر یہاں تو دو بناس یہاں چائی کیا افراد تیم
یہم نے یہاں کامیسی وابست لگا سکی ہے
تیمانوں جو سار پولا سمانی تیمہ کرسو یہاں سمجھ انویسٹر
تو یہاں کامیس میں تیمہ کیا چیزہ امسی تی کنم
زوال پوزیری کن گا سانس چھے
نکلی کانی شاہل کی بڑے پیمانے پر تییاری اور دستکاروں اور تاجروں کے درمیان
اجرتوں کے ماملے پر رسکشی کی وجہ سے سنت کو لگنے والے دھچکے کا
اس سنت سے وابستہ لوگوں کو اب احساس ہونے لگا ہے
یہی وجہ ہے کہ دستکاروں اور بیوپاریوں کے درمیان اب قریبی تالمیل پیدا ہوا ہے
جو ایسے اسباب تلاش کر رہا ہے جسے دستکاروں کو نسرف
وہاں جب وجہ رت ملے گی بلکہ اس سنت کو بھی فروق حاصل ہو سکے گا
چونکہ اثندر کارا ایسی وائن باری آپ پہل کے ایک اسکرگار اس پر حضر پیوک
کہ تیمیس ساتھ وستکاروں مضوری والی
چونکہ اثندر کو وستکاروں مجھبور کے ایسے ات پر تن کھڑا دوگے ایسی احکاروں
ایسی وائن آیال تحکام پوئر ایسی کیا ہے
چونکہ اثندر کارا ایسی پہلے اس کے اثندر بانو اس اک جوینڈ اک ایمی کھوٹر کے ایسے ساتھ کارو کھم ایسی وستکاروں سی تن دریاک کارت
ایسے اگر یہ مشکلات ہے کیا ایسی وجہات کیا گئی اسی وائن آیال ایسی وستکاروں سو پوشش
ایس گے ایمان وستکاروں کو ایسی وستکاروں کو تarial لئے artificial working
میٹنگز سانٹور سندر سانٹور سندر سپوڑی ہوئی بہت مبہاں
یہ ما وہ نصا ایش اک کارگر اکھا سا ایزوں چھو ایش بہترائی چھو ایش اکارگر
جمدار چونکہ ایش مان ایمان تو توی دیو سویبیت کرتا ہے اگر ایک کنجائی کارگر
جمدار توی دیو ایش سی پریکٹُکل خواہی بتان کی کتش کارگر جمدار
اگر ایک کارگر کام پلاوشک مانون بناوان سو اگر ایش کو ساستی
وانکنی تو یہ قریب تی بش نشان دی کیونکہ یہ موکوری ہوتنو سو مادی کیا دو بکھائے نسا
مطلب ایسنی شیوان تو ہی بارال اختندر کال ایک بیاک اک واحل اک ایس تو بھی
ایس شیوان سیدان وین دے ہی موٹن کریں چکی اس کی اک کاراوی مان سیدان
بارال اک واقع اگو خال حال ایک ایس کی حضان کی امیس جانکی انگس پاتے
خال حال ایک حضان کی زینمی مرس مزن سابد اک واقع اک کی تقریبا تقریبا
ایک مان ایسن پنس و لاش ماملو اس مال سو اس آمتن اٹھن لاشن مزن فاروح تک کرنے چکی
اختندر علی اس اتترو ایٹی ووش ایسی تیم اشکاس تیم تیم درال کی یمن اصیتان
واپس تک کی ہی ان یس اتمن در ایم یہ کنومٹ شو کارگران تیم شو کنومت
اصل ریات ایس بیٹا تھا تھا ایم ساستر شنو کنومت کیا اور ایم یہ درال
ہی بچی شو کنومتن ایم شو کنومتن ایم کھوڈ نیس فکھتک کامریت اصیتان چونکہ ایس گئی یمن نیشان یمن درال نیشان یمن سی تک کارش کادو بگے تائی گے واجہ ساپوٹ
براہ ایم کھوڈ بنانے لیجے لیجا کہ ایم کارش کنومٹ کی اندרהال نیشان ہے ایسکہ ایمہ زیادہ خریض حضرت
مخصدی چاہئے دائرکوز کمیس عشونتا سینے ماملے کیا
عشو مخصد سیر فیوٹویوٹ از گوٹ نانون یہ موال کمیشی ہوتموتا
یہ کوتا چو باتا
چونکہ ایسے عزوبت کغیرگر تبکہ صورت امیوک آزار زبردس
یہ موال سا ایسی وستکار چوانا یہ عشوبتا موال ساست
چونکہ ایک ایک اتنا سا چاندی سا کیا ایسے ان یہ کغیرگر چو بناوان سوشکانا
کشمیری دستکاریوں کو بلخصوص کانیشال کو در پیس سورتحال کے پشنظر دستکاروں اور پیوپاریوں کے ساتھ ساتھ سارکار کا فرز بن تا ہے کہ اس سلط کی طرف فاری توجہ دیجائے
ہے کہ اس سلط کی طرف فوری توجہ دی جائے. حاشکر پیٹنڈ کا کانون معصر
بنائے جائے تاکہ بازار سے نقل کا کلکامہ ہو. اور ساتھ ہی اس سلط کو جدیت
تقازوں کے ساتھ ہم آہنک کرنے کے لیے بھی اگ دامات اٹھانا وقت کی اہمترین
ضرورت ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ کانی شال کی بائینول اقوامی
بازاروں میں اظواتِ رفتہ بہان ہوگی. اور ریاست کی اقتصادیات میں بھی ایک
نیا باب رکم ہوگا.
ہی انس کی سلط کیلیت سے میڈوں ممکن نہیں ہے کہ کہ عطایست کیانک کیا فرممت مدار کے
اپر خیلی خیلی خیلی ہوتا ہے
بیٹھے میں ساتھ کیوں
جو پیتہ ہوتا ہے
ہم دو بھی کتنے کے لئے
پہلی بارے کے لئے
