شام کی بارات میں بجتا ہوا سورج مسکر آتے ہوئے مجھ سے پوچھ رہا تھا کیوں کھوٹو شام ہی تم بھی آئے میں نے مسکر آسا دیا
چھپن چھپائے کھیلتے بچوں کی آواز کانوں میں گمجھ کر مجھ ستا رہی تھے
بچے ایک کھیل کا حصہ میں بھی تھا کھیل کم شڑیانتر زیادہ ظاہر ہے اب وہ زیادہ دول نہیں تھا اور اگر تھا میں تو صرف کچھ ہی دیر کے لیے
تلاش کے بیچ میرا ایرادہ بیٹ پوجہ کا ہوا ملر گریبی
سوراک کی کھوج میں پوری رات اس شہر کی گیلی بدی سڑکوں پر وٹکتے ہوئے مجھے صرف ایک مہتوبون چیز ملی اس کو دیکھ کر میں حق کا بکہ رہ گیا
ایک اور حصینا اس کا شکار بن چکی تھی افسوس شاید کوئی مجھ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا
اٹھالیز گھنٹے بعد بھی اس کے اتر کی گند نے میری ناک کی رونٹے سے کڑے کر دیتے
انڈری مبر چوتیس اب تک کے سبھی سوراک ایک حصینا کی طرف اشارہ کر رہے تھے
دوڑ، پورشن، اب کھلاڈی کو ضرورتی ایک چیز کی، ہیڈریشن
ایسی کم کر داویہ وی مور کی اصدیتی میں صرف یہی تھا میرا ساتھی
تبھی اچانک سے وہ میرے سام میں سے آئے
میں اس کے پیچھا باگا، گتی تیزری، میری بھی اس کی بھی، سان سے نمہ ہو گئے
میں ہتیار کی طرف اپنہ ہاتھ پڑھا رہا تھا کی
کھترہ، مشکل، درد، آکاش میرے چاروں طرف صرف مڑھ راتا ہوا دکھائے دی راتا
پاکرکار میں اس کا شکار بن ہی گیا، اتنا نصدیق، مگر، اور تب ہی، وہ منوز دن شاید پرائیوی ٹیٹٹف کوٹو کے لئے صرف سیک پھرا تھا
سیک پھرا تھا، در مگر اس بات کا تھا کہ میں دشمن کی تلاش میں تھا لیکن وجہ کچھ اوری تھی
کچھ اوری تھی، شہت کھٹو کو پیار ہو گیا تھا، اپنہ ہی دشمن سے
